نقشِ حیات ایک اسلامی تعلیمی پلیٹ فارم ہے جہاں قرآن و حدیث، نماز و طہارت، اسلامی آداب، تربیت و اصلاح اور روزمرہ اسلامی رہنمائی آسان اور بصری انداز میں پیش کی جاتی ہے۔
وضو کے چار فرائض
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
وضو نماز کے لیے طہارت حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق وضو کے چار فرائض ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک فرض بھی صحیح طور پر ادا نہ ہو تو وضو درست نہیں ہوتا۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے وضو کے بنیادی اعمال بیان فرمائے ہیں: چہرہ دھونا، ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا، سر کا مسح کرنا اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا۔ (سورۃ المائدہ: 6)
اس مضمون میں ہم وضو کے ان چار فرائض کو فقہِ حنفی کے مطابق آسان انداز میں سمجھیں گے۔
🎥 ویڈیو میں وضو کے چار فرائض سمجھیں
1۔ پورا چہرہ دھونا
وضو کا پہلا فرض پورے چہرے کو ایک مرتبہ دھونا ہے۔ چہرے کی حد لمبائی میں پیشانی کے بالوں کی معمول کی جگہ سے ٹھوڑی کے نچلے حصے تک، اور چوڑائی میں ایک کان کی لو سے دوسری کان کی لو تک ہے۔ اس پوری حد تک پانی پہنچنا ضروری ہے۔
اگر داڑھی ہلکی ہو اور اس کے نیچے کی جلد نظر آتی ہو تو جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو چہرے کی حد میں آنے والی داڑھی کے ظاہری حصے کو دھونا کافی ہے۔
عام غلطی: چہرے کے کناروں، خصوصاً کانوں کے قریب والے حصے کو خشک نہ رہنے دیں۔
2۔ دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا
وضو کا دوسرا فرض دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کے سروں سے لے کر کہنیوں سمیت ایک مرتبہ دھونا ہے۔ قرآنِ کریم میں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونے کا حکم بیان ہوا ہے۔ (سورۃ المائدہ: 6)
دھوتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ انگلیوں، ہاتھوں، کلائیوں اور کہنیوں سمیت پورے فرض حصے تک پانی پہنچ جائے۔ اگر کوئی ایسی چیز لگی ہو جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتی ہو تو اسے ہٹانا ضروری ہے۔
عام غلطی: بعض اوقات کہنی کا کوئی حصہ یا انگلیوں کے درمیان جگہ خشک رہ جاتی ہے، اس لیے اطمینان کرلیں کہ پورے حصے تک پانی پہنچ گیا ہے۔
3۔ چوتھائی سر کا مسح کرنا
وضو کا تیسرا فرض سر کا مسح کرنا ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق کم از کم چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے۔
مسح کا مطلب سر کو دھونا نہیں، بلکہ تر ہاتھ سر پر پھیرنا ہے۔ اس لیے وضو کرتے وقت اتنے حصے پر تر ہاتھ پھیرنا ضروری ہے کہ کم از کم چوتھائی سر کا مسح ہوجائے۔
عام غلطی: صرف چند بالوں یا سر کے بہت تھوڑے حصے پر ہاتھ پھیر دینا کافی نہیں۔ کم از کم چوتھائی سر کا مسح ہونا ضروری ہے۔
4۔ دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا
وضو کا چوتھا فرض دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت ایک مرتبہ دھونا ہے۔ پاؤں کی انگلیوں سے لے کر دونوں ٹخنوں سمیت پورے فرض حصے تک پانی پہنچنا ضروری ہے۔
پاؤں دھوتے وقت خاص طور پر انگلیوں کے درمیان، ایڑیوں اور ٹخنوں کے آس پاس پانی پہنچنے کا خیال رکھیں، تاکہ کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔
عام غلطی: جلدی میں وضو کرتے ہوئے بعض اوقات ایڑی یا پاؤں کا کوئی کنارہ خشک رہ جاتا ہے۔ اس لیے اطمینان کرلیں کہ پورا پاؤں ٹخنوں سمیت اچھی طرح تر ہوگیا ہے۔
اہم بات
وضو کے یہ چار اعمال فرض ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک فرض بھی صحیح طور پر ادا نہ ہو تو وضو درست نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ وضو کے فرائض کے علاوہ وضو کی سنتیں اور آداب بھی ہیں، جن سے وضو مکمل اور مسنون طریقے کے مطابق ادا ہوتا ہے۔ انہیں ہم الگ مضمون اور چارٹ میں آسان انداز سے بیان کریں گے۔
حوالہ جات
القرآن:سورۃ المائدہ، آیت 6
فقہِ حنفی: الہدایہ، کتاب الطہارة
مزید سیکھیں
وضو کی سنتیں، وضو کا مکمل مسنون طریقہ، وضو توڑنے والی چیزیں اور وضو سے متعلق اہم مسائل بھی نقشِ حیات پر آسان چارٹس اور تفصیلی مضامین کی صورت میں پیش کیے جائیں گے۔
نماز اسلام کی بنیادی عبادات میں سے ایک ہے۔ مسلمان دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ادا کرتے ہیں۔ نماز بندے کو بار بار اپنے رب کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی، ذکر اور دعا کا اہم ذریعہ ہے۔ نماز کی اہمیت اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ نماز صرف چند حرکات کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، بندگی اور اطاعت کا اظہار ہے۔ نماز انسان کو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، وقت کی پابندی سیکھنے اور اپنی روزمرہ زندگی میں نظم پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ پانچ فرض نمازیں ہر مسلمان پر دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں مقرر ہیں: فجر ظہر عصر مغرب عشاء ہر نماز کا ایک مقرر وقت ہے، اس لیے نماز ادا کرنے سے پہلے اس کے وقت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نماز سے پہلے ضروری تیاری نماز شروع کرنے سے پہلے چند بنیادی باتوں کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ 1۔ پاکیزگی نماز کے لیے طہارت ضروری ہے۔ اگر وضو کی ضرورت ہو تو وضو کیا جائے اور اگر غسل فرض ہو تو غسل کیا جائے۔ لباس اور نماز کی جگہ بھی پاک ہونی چاہیے۔ 2۔ نماز کا وقت فر...